اسلام آباد (ویب ڈیسک): مشرقِ وسطیٰ میں امن کی بحالی اور سفارتی تعطل کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششیں رنگ لانے لگی ہیں۔ ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے اپنی نئی تجاویز کا مسودہ پاکستان کے حوالے کر دیا ہے۔
مذاکرات کا نیا مرحلہ اور پاکستان کا کردار
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے 'ارنا' کے مطابق، ایران نے جنگ بندی اور امن عمل سے متعلق اپنی تازہ ترین تجاویز جمعرات کی شام پاکستانی حکام کو فراہم کیں۔ پاکستان اب یہ مسودہ امریکا کو ارسال کرے گا، جس کے بعد واشنگٹن کے جواب کو تہران تک پہنچایا جائے گا۔
پاکستان اس پورے عمل میں ایک کلیدی ثالث کے طور پر ابھرا ہے جو نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کروا رہا ہے بلکہ عالمی طاقتوں کو بھی اس عمل میں شامل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
ایران کی نئی تجویز کے اہم نکات
ذرائع کے مطابق، ایران کی جانب سے پیش کردہ مسودے میں 'مرحلہ وار امن عمل' کی بات کی گئی ہے۔ اس پلان کے اہم حصے درج ذیل ہو سکتے ہیں:
پہلا مرحلہ: جنگ بندی کو مستحکم کرنا۔
دوسرا مرحلہ: آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو دوبارہ کھولنا۔
تیسرا مرحلہ: جوہری پروگرام جیسے پیچیدہ معاملات پر بات چیت۔
ممکنہ رکاوٹیں اور تحفظات
رپورٹس کے مطابق، امریکا نے بعض ایرانی تجاویز پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، خاص طور پر ایران کی اس خواہش پر کہ جوہری پروگرام کے مسئلے کو فوری طور پر زیر بحث لانے کے بجائے مؤخر کر دیا جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے دونوں فریقین کو بڑے سمجھوتے کرنے ہوں گے۔
توقع کی جا رہی ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا یہ اہم دور کل اسلام آباد میں منعقد ہو سکتا ہے۔
0 Comments