ہیڈ لائنز

میرا رنگ سانولا تھا جو اس وقت قبول نہیں کیا جاتا تھا، عفت عمر نے ماضی کی تلخ یادیں تازہ کر دیں

لاہور (ویب ڈیسک): معروف پاکستانی ماڈل، میزبان اور اداکارہ عفت عمر نے ایک حالیہ انٹرویو میں اپنی ماضی کی زندگی، شدید مالی مشکلات اور اپنی رنگت سے متعلق درپیش معاشرتی رویوں پر پہلی بار کھل کر گفتگو کی ہے۔

غربت اور تعلیمی سفر عفت عمر نے انکشاف کیا کہ ان کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا، تاہم ان کی والدہ نے نامساعد حالات کے باوجود انہیں اچھے اسکول میں تعلیم دلوائی۔ انہوں نے بتایا کہ والد کی عدم موجودگی اور گھر کے مالی مسائل نے ان کی زندگی میں بہت سے چیلنجز پیدا کیے جن کا انہوں نے کم عمری میں ہی سامنا کرنا شروع کر دیا۔

رنگت اور ماڈلنگ میں مشکلات اداکارہ نے اپنی رنگت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرا رنگ بہت سانولا تھا، اور اس دور میں سانولی رنگت کو ماڈلنگ یا شوبز کے لیے قابل قبول نہیں سمجھا جاتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشرتی احساسِ کمتری اور مالی مسائل ہی وہ عوامل تھے جنہوں نے انہیں ماڈلنگ کی دنیا میں قدم رکھنے پر مجبور کیا۔ عفت عمر کے مطابق لوگوں کے لیے یہ بات انتہائی حیران کن تھی کہ ایک انتہائی سانولی لڑکی بھی صفِ اول کی ماڈل بن سکتی ہے، مگر انہوں نے اپنی محنت سے اس سوچ کو غلط ثابت کیا۔

ازدواجی زندگی اور کامیابی اپنی شادی کا تذکرہ کرتے ہوئے عفت عمر نے بتایا کہ جب ان کی شادی ہوئی تو لوگوں نے دعوے اور پیشگوئیاں کی تھیں کہ یہ رشتہ چند ماہ بھی نہیں چل پائے گا۔ تاہم انہوں نے تمام تر مشکلات اور منفی باتوں کے باوجود اپنی ازدواجی زندگی کو کامیابی سے نبھایا اور آج وہ ایک خوشحال زندگی گزار رہی ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ وہ اسی رنگت اور پس منظر کے ساتھ آگے بڑھیں اور انہی لوگوں کے درمیان اپنی محنت کے بل بوتے پر اپنی پہچان بنائی جنہوں نے کبھی انہیں مسترد کر دیا تھا۔

0 Comments

Type and hit Enter to search

Close