ہیڈ لائنز

ایران کی امریکا کو نئی وارننگ: ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس صرف دو راستے باقی، تہران نے ڈیڈ لائن دے دی

تہران (ویب ڈیسک): ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب اسلامی (IRGC) کے انٹیلی جنس ونگ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایران کے حوالے سے فیصلہ سازی کے آپشنز انتہائی محدود ہو چکے ہیں اور انہیں اب دو مشکل ترین راستوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔

ٹرمپ کے لیے دو مشکل آپشنز ایرانی حکام کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے پاس اب صرف دو ہی راستے بچے ہیں۔ پہلا راستہ ایک ایسے فوجی آپریشن کا ہے جسے ایران نے ’ناممکن‘ قرار دیا ہے، اور دوسرا راستہ ایران کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ کرنا ہے جو امریکا کے لیے ’خراب معاہدہ‘ ثابت ہو سکتا ہے۔ ایرانی انٹیلی جنس کے مطابق امریکا اب ایک بند گلی میں ہے جہاں اسے کوئی آسان راستہ نظر نہیں آ رہا۔

بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور ڈیڈ لائن تہران نے واشنگٹن کو اپنی بندرگاہوں کی اقتصادی ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے ایک باقاعدہ ڈیڈ لائن بھی دے دی ہے۔ اگرچہ اس ڈیڈ لائن کی حتمی تاریخ اور تفصیلات کو فی الحال خفیہ رکھا گیا ہے، تاہم ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر ناکہ بندی ختم نہ کی گئی تو خطے کی صورتحال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے جس کی تمام تر ذمہ داری امریکا پر ہوگی۔

عالمی ردعمل اور سفارتی دباؤ پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس یونٹ کا کہنا ہے کہ صرف تہران ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی امریکا کے خلاف لہجہ تبدیل ہو رہا ہے۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چین، روس اور حتیٰ کہ یورپ کی جانب سے بھی واشنگٹن کے سخت گیر مؤقف پر تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے امریکا بین الاقوامی سطح پر تنہائی کا شکار ہو سکتا ہے۔

ماہرین کی رائے دفاعی اور خارجہ امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ لفظی جنگ اور ناکہ بندی کی صورتحال خطے کی سیکیورٹی کو شدید خطرات سے دوچار کر سکتی ہے۔ کسی بھی ممکنہ فوجی تصادم یا سفارتی ناکامی کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور سیاست پر مرتب ہوں گے۔

0 Comments

Type and hit Enter to search

Close